حاجی علی درگاہ ٹرسٹ سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹائے گا
ممبئی، 26؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ممبئی ہائی کورٹ نے آج اپنے ایک اہم فیصلہ میں یہاں کی حاجی علی درگاہ کے اندرونی حصہ میں خواتین کے داخلے پر پابندی کو ختم کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پابندی کسی بھی شخص کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔حاجی علی درگاہ ٹرسٹ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج دینا چاہتا ہے اور ٹرسٹ کی جانب سے دائر درخواست کی وجہ سے عدالت نے اپنے اس فیصلہ پر 6 ہفتے کے لیے روک لگا دی ہے۔جسٹس وی ایم کناڈے اور جسٹس ریوتی موہتے ڈیرے کی بنچ نے کہاکہ حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلے پر عائد کی گئی پابندی ہندوستانی آئین کی دفعہ 14، 15، 19اور 25کی خلاف ورزی ہے۔ان دفعات کے تحت کسی بھی شخص کو قانون کے تحت برابری کا حق حاصل ہے اور اپنے من پسند کسی بھی مذہب پر عمل کرنے کا بنیادی حق ہے۔یہ دفعات مذہب، جنس اور دیگر بنیادوں پر کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک پر پابندی لگاتی ہیں اور کسی بھی مذہب کو آزادانہ طور پر اختیار کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی پوری آزادی دیتی ہیں۔درگاہ کے مزار والے حصے (اندرونی حصہ )میں خواتین کے داخلے پر پابندی کو ذکیہ سومن اور نور جہاں نیاز نے چیلنج کیا تھا۔بنچ نے ان کی درخواست کو بھی قبول کر لیا ہے۔ہائی کورٹ نے کہاکہ ریاستی حکومت اور حاجی علی درگاہ ٹرسٹ کو درگاہ میں داخل ہونے والی خواتین کی سیکورتی کے پختہ انتظامات کو یقینی بنانا ہوگا۔اس سال جون میں ہائی کورٹ نے عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
اس درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ قرآن میں جنسی مساوات کا ذکرہے اور پابندی کا فیصلہ حدیث کی خلاف ورزی کرتا ہے جس کے تحت خواتین کے مزاروں تک جانے پر کوئی روک نہیں ہے۔مہاراشٹر حکومت نے پہلے عدالت میں کہا تھا کہ حاجی علی درگاہ کے مزار والے حصے میں خواتین کے داخلے پر پابندی تبھی عائد ہونی چاہیے جب کہ قرآن میں اس کا ذکر کیا گیا ہو۔مہاراشٹر کے سابق سالیسٹر جنرل شری ہری انیے نے دلیل دی تھی کہ کسی ماہر کے ذریعہ قرآن کی تشریح کی بنیاد پر خواتین کے داخلہ پر پابندی کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔درگاہ ٹرسٹ نے اپنے فیصلے کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا تھا کہ قرآن میں اس کا ذکر ہے کہ کسی بھی خاتون کو مردصوفی کی درگاہ کے قریب جانے کی اجازت دینا سنگین گناہ ہے۔ٹرسٹ کی جانب سے پیش وکیل شعیب میمن نے پہلے کہا تھاکہ سعودی عرب میں مساجد میں خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔عبادت کرنے کے لیے ان کے لیے الگ جگہ کا بندوبست ہے۔ہم نے(ٹرسٹ)ان کے داخلہ پر روک نہیں لگائی ہے۔یہ قانون صرف ان کی سیکورٹی کے لیے ہے۔ٹرسٹ صرف درگاہ کا انتظام ہی نہیں دیکھتا ہے بلکہ مذہب سے متعلق امور پر نظر رکھتا ہے۔